Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

شادی شدہ بیٹی بھی سرکاری ملازمت کی حقدار – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

 


اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ شادی شدہ بیٹی بھی اپنے مرحوم والد کے دیگر بچوں کی طرح برابر کا حق رکھتی ہے اور محض شادی شدہ ہونے کی بنیاد پر اس کے حقوق کو محدود کرنا آئینی اور قانونی طور پر غلط ہے۔


سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ تصور کہ شادی کے بعد عورت مالی طور پر اپنے شوہر کی محتاج ہو جاتی ہے، نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ اسلام خواتین کے معاشی حقوق اور خودمختاری کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔


کیس کی تفصیلات


یہ فیصلہ ایک سرکاری سکول کی معلمہ، زاہدہ پروین کے کیس میں سنایا گیا، جنہیں "متوفی کوٹے" کے تحت 17 مارچ 2023 کو پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا، لیکن بعد میں ضلعی تعلیمی افسر (خواتین) کرک نے بغیر کسی نوٹس کے ان کی تقرری منسوخ کر دی۔


عدالت کو بتایا گیا کہ زاہدہ پروین کی ملازمت اس وضاحت کی بنیاد پر ختم کی گئی کہ شادی شدہ خواتین "متوفی کوٹے" کے تحت سرکاری ملازمت کی اہل نہیں ہوتیں۔ اس فیصلے کو زاہدہ پروین نے چیلنج کیا، جس پر سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور ان کی بحالی کے ساتھ تمام واجبات ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔


سپریم کورٹ کا فیصلہ


سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو "امتیازی، غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:


"کسی شادی شدہ بیٹی کو نوکری کے حق سے محروم کرنا، صنفی امتیاز کے مترادف ہے اور یہ پاکستان کے آئینی، قانونی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"


"عورت اپنی ذات میں خودمختار شہری ہے اور اس کی قانونی حیثیت کسی مرد کے رشتے (والد، شوہر یا بیٹے) سے منسلک نہیں کی جا سکتی۔"


"معاشی آزادی کسی بھی شہری کے لیے ایک بنیادی حق ہے، جو اس کی خودمختاری اور عزتِ نفس کی ضمانت دیتا ہے۔"



صنفی برابری اور آئینی حقوق


عدالت نے مزید کہا کہ:


"تمام سرکاری اور عدالتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ صنفی مساوات اور صنفی غیرجانبداری کے اصولوں کو اپنائیں۔"


"شادی شدہ خواتین کو نوکریوں سے محروم کرنا، غیر آئینی اور بنیادی حقوق (آرٹیکل 14، 25، 27) کی خلاف ورزی ہے۔"


"اسلامی قانون کے مطابق، عورت کی کمائی اور جائیداد پر اس کا مکمل اختیار ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔"



بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی


عدالت نے اپنے فیصلے میں اقوامِ متحدہ کے معاہدے CEDAW (خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کا معاہدہ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہے اور ملکی قوانین میں بھی عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔


نتیجہ


سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ زاہدہ پروین کی نوکری بحال کی جائے اور ان کی تنخواہ اور دیگر واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ یہ فیصلہ پاکستان میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments