کراچی:
عید کی تیاریوں کے دوران 1960 اور 1970 کی دہائی کے روایتی فیشن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان دنوں قدیم اور آکسیڈائزڈ مصنوعی زیورات کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو خواتین کے عید کے ملبوسات کو ایک منفرد انداز دے رہے ہیں۔
قدیم اور آکسیڈائزڈ زیورات کی طلب میں اضافہ
کراچی کی مارکیٹیں چمکدار مصنوعی زیورات سے بھری ہوئی ہیں، جن میں بڑے سائز کے جھمکے، نازک لاکٹ اور ہپی اسٹائل کی چوڑیاں شامل ہیں۔ چاہے راجستھانی جھمکے ہوں یا ترکی کے نفیس بندے، خواتین کے پاس اپنے لباس اور انداز کے مطابق بہترین آپشنز موجود ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کی مارکیٹ سروے کے مطابق، خواتین کا کہنا ہے کہ اب سونے کے زیورات صرف شادیوں تک محدود ہیں جبکہ مصنوعی زیورات کو روزمرہ فیشن میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس سال خاص طور پر چھوٹی قمیضوں اور فرشی شلواروں کے ساتھ میچنگ جیولری کی طلب بڑھ گئی ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈرامے زیورات کے فیشن پر اثرانداز
دکانداروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈرامہ سیریلز میں دکھائے جانے والے قدیم زیورات نے خواتین کی پسند پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آکسیڈائزڈ زیورات مدھم چمک اور روایتی و جدید فیشن کے امتزاج کی وجہ سے خاص طور پر مقبول ہو رہے ہیں۔
قدیم ڈیزائن کے زیورات پرانے شاہی زیورات سے متاثر ہو کر بنائے جاتے ہیں، جن کی مانگ کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں واضح طور پر بڑھ رہی ہے۔ آن لائن شاپنگ فورمز پر بھی اعلیٰ معیار کے مصنوعی زیورات مناسب قیمت پر دستیاب ہونے کے باعث ان کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مصنوعی زیورات کی بڑھتی مقبولیت کی وجوہات
مصنوعی زیورات کی مقبولیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر تیزی سے بڑھ رہی ہے:
✅ ہلکے وزن اور روزمرہ استعمال کے لیے آرام دہ
✅ سونے اور چاندی کے مقابلے میں کم قیمت
✅ روایتی اور جدید ڈیزائنز کا حسین امتزاج
زینب مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق، قدیم اور آکسیڈائزڈ زیورات کا رجحان وقت کے ساتھ مزید بڑھے گا، کیونکہ نوجوان نسل خاص طور پر ان منفرد اور روایتی ڈیزائنز میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
عید 2025 کے لیے سب سے زیادہ مقبول زیورات
اس عید پر خواتین درج ذیل اسٹائلز کو ترجیح دے رہی ہیں:
راجستھانی، افغانی، نیپالی، مغل اور کلاسیکل جیولری، جو اپنے گہرے رنگوں اور نازک ڈیزائنز کی وجہ سے مشہور ہیں۔
ترکی کے کنگن اور بندے جو مشرقی اور مغربی انداز کا بہترین امتزاج پیش کرتے ہیں۔
جرمن نیکلس جو اپنی دلکش اور منفرد بناوٹ کے لیے مشہور ہیں۔
کراچی میں زیورات کی قیمتیں
عید کی شاپنگ میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ، مختلف مصنوعی زیورات کی قیمتیں درج ذیل ہیں:
💎 راجستھانی چوڑیاں: 500 سے 1,000 روپے
💎 ترکی کنگن: 1,000 روپے
💎 نیپالی کنگن: 200 سے 1,000 روپے
💎 راجستھانی، نیپالی اور افغانی بندے: 200 سے 1,000 روپے
💎 جرمن نیکلس: 500 سے 2,000 روپے
حتمی نتیجہ
روایتی اور جدید فیشن کے حسین امتزاج کے ساتھ قدیم اور آکسیڈائزڈ زیورات عید 2025 کے لیے بہترین انتخاب بن چکے ہیں۔ کراچی کی بھرپور مارکیٹوں میں خریداری ہو یا آن لائن شاپنگ کا رحجان، خواتین ایسے زیورات کا انتخاب کر رہی ہیں جو ان کے انداز اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگر آپ بھی اس عید پر اسٹیٹمنٹ جیولری پہن کر سب کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو نیپالی، ترکی اور راجستھانی جیولری آپ کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتی ہے!
0 Comments